الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جس کے ذمہ حج فرض تھا، مگر چوٹ لگنے کی وجہ سے معذور ہو گیا

سوال

(۱) کوئی شخص حج کے قابل ہے لیکن جاسکتا نہیں، اکیلے کی وجہ سے اگر وہ اس روپیہ کو مدرسہ اور غریب پر تقسیم کرے یا کسی مقروض آدمی کو دے تو ٹھیک ہے یا نہیں؟ (۲) اسی طرح نفلی حج کے لئے ایک آدمی نے حج کا ارادہ کیا، اس کو چوٹ بہت لگ گئی، چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہا، اگر وہ بھی اسی طرح تقسیم کر دے، تو ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) جس کے ذمہ حج فرض ہے، اور اکیلا ہونے کی وجہ سے نہیں جاسکتا، تو اس کو روپیہ بھی خرچ نہیں کرنا چاہئے، بلکہ ساتھی تلاش کرے، جب گھر سے نکلے گا، تو امید ہے کہ اس کے ساتھی ایک نہیں کئی مل جائیں گے (۲) جو شخص نفلی حج کا ارادہ رکھتا تھا، اور اسکو چوٹ لگ گئی جسکی وجہ سے سفر سے معذور ہو گیا، تو اسکو حق ہے کہ روپیہ غریبوں کو دیدے یا اپنی طرف سے کسی کو حج کیلئے بھیج دے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو