قحط کی حالت میں حج
سوال
عبدالرشید کی ایک لڑکی شادی شدہ ہے لیکن دامادلڑکی کو بہت زدوکوب کرتا ہے، ہر چند سمجھایا مگر باز نہیں آیا، اب عبدالرشید حج کو جانا چاہتا ہے، مگر ڈر یہ ہے کہ سفر حج میں اگر کچھ ہو گیا، تو لڑکی یتیم ہو جائے گی، اور اس کی زندگی بھیانک گذرے گی، اسی طرح اس علاقہ میں قحط پڑ رہا ہے، تو پھر حج کو چلا جاوے، یا اس وقت ملتوی کر دے، تو یہ کیسا ہے؟
جواب
لڑکی کی مذکورہ حالت کی بناء پر حج فرض کو ترک ہرگز نہ کرے، اسی طرح بارش نہ ہونے کی وجہ سے ترک نہ کرے، الا یہ کہ حج سے پہلے پہلے اپناروپیہ غرباء کو صدقہ کر دے تا کہ قحط زدہ غریبوں کی امداد ہو جائے، تو حج خود ہی امسال لازم نہیں رہے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔