مشترکہ تجارت میں حج کس پر ہے
سوال
(۱) مثلاً کئی بھائی مشترکہ زندگی گزارتے ہیں، اور سب کماتے ہیں، کوئی تجارت سے، کوئی زراعت سے، مگر تجارت کرنے والے بھائی زیادہ کماتے ہیں، کہ سب کے اخراجات مشترکہ اٹھانے کے بعد بھی اتنا روپیہ بچ رہتا ہے، کہ گھر کا ہر فرد حج کر سکتا ہے،اور مشترکہ گھر جس میں نصاب سے کم کماتے ہیں، حسب ذیل قسم کے لوگ شامل ہیں، اس تاجر کے بھائی اور ان کی بیویاں اور اس کے والدین اور اس تاجر کے بالغ لڑکے غیر شادی شدہ ہیں تو شرعاً ان میں کس پر حج فرض ہوگا، اور کس پر نہیں؟ (۲)
جواب
(۱) جب سب بھائی الگ الگ کماتے ہیں، تو ہر ایک اپنی اپنی کمائی کا مالک ہے، جس کے پاس حاجت اصلیہ سے زائد بقدر حج روپیہ ہو اس پر حج فرض ہے، ان کا ایک ساتھ مشترکہ زندگی گزارنا اور ایک دوسرے کی اعانت کرنا یہ آپس کی ہمدردی ہے، جن کا کمایا ہواروپیہ ہے، اگر وہ پہلے حج کر لیں، پھر نمبر وار دوسروں کو حج کرائیں تو سب کو یہ سعادت حاصل ہو جائے گی، نابالغ پر حج فرض نہیں، اگر وہ حج کر لیں تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔