الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اپنے حج کے لئے کیا پہلے والد کو حج کرانا ضروری ہے

سوال

ایک شخص نے اپنی کمائی سے حج کے لئے روپیہ اکٹھا کیا اور وہ حج کو جانا چاہتا ہے، مگر لوگ کہتے ہیں پہلے والد کو حج کرانا چاہئے، بعد میں خود کرے،اب اس کو کیا کرنا چاہئے، جب کہ اس کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ والد کو بھی ساتھ لیجا سکے؟

جواب

اس کو خود اپنا حج کرنا چاہئے، پھر اگر کسی وقت وسعت ہو اور اپنے والد کو بھی حج کرا دے، تو عین سعادت ہے، یہ بات کہ جب تک والد کو حج نہ کرائے اپنا حج بھی نہ کرے، شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بے علم عوام میں غلط مشہور ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو