کیا حج کے لئے والد کی اجازت لینی چاہئے؟
سوال
آج کل چند ماہ سے دمام سعود یہ رہ رہا ہوں، میں نے والد صاحب کو خط لکھا کہ آپ اس سال حج کو چلے جاویں، مجھ سے جو کچھ ہو سکے گا، میں مدد کرونگا، ابا نے جواب دیا کہ میں تین ہزار روپے کا مقروض ہوں، جب تک ادا نہ ہو جائے ناممکن ہے، میں نے فوراً لکھا کہ یہ قرض میں ادا کرونگا، اس کے علاوہ حج کے سلسلہ میں بھی ایک ہزار دو ہزار کی مدد کروں گا، مگر ابا نے کوئی جواب نہیں دیا، حالانکہ مجھ کو معلوم ہوا کہ ابا کو میرا خط ملا تھا، جب کہ میں اپنے ذمہ کا قرض ادا کرنے میں ہی پریشان ہوں، اور بچوں کے اخراجات کی الگ پریشانی ہے، ۵-۶ بچے…
جواب
تحریر کردہ حالات کے پیش نظر آپ حج کر سکتے ہیں بلکہ حج کر لیں، والد صاحب کی اجازت پر موقوف نہ رکھیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔