الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چاندی کا روپیہ قرض لیا اور اس کو اب ادا کرنا چاہیں تو کونسا روپیہ ادا کریں

سوال

عمر کا زید سے لین دین تھا، مثلاً زید کے ذمہ عمر کے ۹۳۶ روپے اصل تھے، اور باقی سود تھا، اس صورت میں عمر نے زید کے اوپر نالش کر دی، اور اس پر بڑا بھاری مقدمہ لڑا، دونوں فریق کا کافی روپیہ خرچ ہوا، عمر مقدمہ ہار گیا، زید نے عمر کا روپیہ طلب کرنے پر نہیں دیا، لیکن اقرار کرتا رہا، زید نے جو روپیہ لیا تھا، وہ چاندی کا تھا، اور اس وقت وہی سکہ رائج تھا، نوٹ نہیں تھا، اب زید کے وارث عمر کے وارثوں کو وہ اصل روپیہ ۹۳۶ ر روپئے نوٹ کی شکل میں ادا کرنا چاہتے ہیں، مگر عمر کے وارث یہ کہتے ہیں کہ ہمارے چاندی کے روپیہ تھے، ہم تو…

جواب

سود کا لینا بھی حرام ہے، اور دینا بھی حرام ہے، سود لینے اور دینے والے پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے، اس لئے سود کا مطالبہ ہرگز نہ کیا جاوے، نہ سود ادا کیا جائے،لہٰذا سود تو بالکل ختم ہے۔ جب زید کو اقرار تھا تو مقدمہ کیوں ہار گیا، سمجھ میں نہیں آیا، نیز اقرار کے باوجود مقدمہ کی ضرورت کیوں پیش آئی، اگر زید کے پاس ادا کرنے کی گنجائش نہیں تھی، تو اس کو مہلت دی جاتی، ایسی صورت میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو