الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قرض لینے کے بعد چاندی کا بھاؤ بڑھ گیا

سوال

(۱) یوسف کا قرض بشیر پر ہے، غالباً اب سے چودہ پندرہ سال ہوئے اب تک قرض ادا نہ کر سکا، اب دیتا ہے، یوسف کہتا ہے کہ جس سال میں نے قرض دیا تھا، اس وقت چاندی کا بھاؤ دو یا ڈھائی روپیہ تولہ تھا، اب تو میں اتنی چاندی کے نوٹ لونگا، کم نہیں لے سکتا، یہ خیال محمد یوسف کا درست ہے یا نہیں؟ (۲) زید کا قرض بکر پر اس زمانے کا آتا ہے، جس زمانے میں چاندی کا روپیہ چلتا تھا، یا اس کا نوٹ تھا، اب بکر ادا کرنا چاہتا ہے، لیکن زید کہتا ہے کہ میں نے تو چاندی کے روپئے دیئے تھے، لاؤ چاندی کے یا اتنی چاندی کے نوٹ لاؤ، ورنہ میں نہیں لیتا،…

جواب

(۱) اب سے ۱۵/۱۴ برس پہلے قرض جتنے نوٹ لئے تھے، اتنے ہی نوٹ واپس کرنیکا حکم ہے، چاندی کا بھاؤ تیز ہو جانے کیوجہ سے قرض کے نوٹ زیادہ لینا درست نہیں۔ (۲) اگر چاندی کے روپیہ قرض دیئے تھے تو اتنی چاندی یا اسکی قیمت واپس کی جائے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو