اپنا قرض بڑوں اور دوستوں سے مانگنا
سوال
زید کا قرض کسی ایسے شخص کے ذمہ ہے کہ جس سے وہ اپنا قرض مانگ نہیں سکتا، اس کی عظمت مانع ہے، یا زیادتی تعلق مانع ہے، عظمت مانع ہونے کی یہ صورت ہے، کہ زید کا قرض کسی اپنے استاذ یا پیر یا کسی بڑے کے ذمہ ہے، زیادتی تعلق کی صورت یہ ہے کہ وہ شخص زید کا دوست ہے، اس سے قرض مانگتے ہوئے شرم آتی ہے، لہذا زیدان سے مطالبہ تو نہیں کر سکتا، اب اگر زید اپنے قرض کے بقدر بلا اجازت چپکے سے اپنے مقروض کے مال میں سے لے لے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
پہلے مطالبہ کرے، اگر مقروض دینے سے انکار کر دے تو پھر دوسرے طریقہ سے وصول کرے، معاملات میں عظمت اور دوستی مانع نہیں ہونی چاہئے، ورنہ تو پھر قرض معاف کر کے ان کو بری الذمہ کر دے، اس میں عظمت کی بھی رعایت ہے، اور دوستی کی بھی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔