نوٹ قرض لیا پھر سونا گراں ہو گیا
سوال
نوٹ بنانے والے (گورنمنٹ) دھوکہ کرتی ہے، وہ اس طرح کہ اتنا سونا پاس نہیں ہوتا جتنا کہ وہ نوٹ چھاپ کر ملک میں پھیلاتے ہیں، اشیاء کی گرانی بھی بہت ہے، تو اگر ۳۸ھ میں کسی نے سو روپیہ قرض لیا جبکہ سونا سو روپیہ تولہ تھا، تو اب قرض میں سو روپیہ اگر مقروض ادا کرے گا تو سونا ڈھائی سو روپیہ کا ایک تولہ آئے گا، تو مقروض کس طرح ذمہ سے سبکدوش ہوگا؟
جواب
نوٹ بنانے والوں نے جو بھی دھوکہ بازی کی ہو اسکے ذمہ دار وہ ہیں، جن سے نوٹ قرض لیا ہے، اس سے نوٹ ہی واپس لینے کا حق ہے، اگر سو کا نوٹ لیا تھا، تو سوکا نوٹ واپس کر دے، بری الذمہ ہو جائیگا، اسکی گرانی سے اس پر اثر نہیں ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔