ثبوت دین کے لئے حلف
سوال
ایک تاجر کے ۴۵ روپے دوسرے تاجر کے سرمایہ میں جس سے کہ اس کالین دین تھا، خرد برد ہو گیا، دویم اس کا روپیہ کی تعین کے بارے میں تاجروں سے ہی اٹھوانا یا قسم لینا چاہتا ہے، تاجروں کا اس کے علاوہ بھی کچھ روپیہ تاجر دویم کے ذمہ ہے، مگر اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ایسی صورت میں تاجروں کو اس جھگڑے والے روپے کے لئے قسم کھانا یا نامہ تحریر کرنا جائز ہے کہ نہیں؟
جواب
اگر تاجر دویم مدعی ہے، اور تاجروں سے روپیہ وصول کرنا چاہتا ہے، اور تاجر اس سے کہتا ہے کہ روپیہ ضائع ہو گیا، تاجر دویم اس کا یقین نہیں کرتا بلکہ حلف لینا چاہتا ہے، اور تاجر اپنے قول میں صادق ہے، اس کو قسم کھانا خواہ زبانی ہو، خواہ تحریری ہو شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔