قرض لیکر واپس نہ کرنا
سوال
زید اور بکر کا دوستانہ اور برادرانہ تعلق تھا، جب بکر پریشان ہوا تو زید نے از راہ ہمدردی قرض کے طور پر آٹھ سو پچاس روپئے دیا، مگر اب بکر نے اس روپیہ کی واپسی سے صاف جواب دیدیا ہے، زید اس روپیہ کی جبکہ وہ بکر کے پاس تھا زکوۃ بھی ادا کرتا رہا۔ (۱) کیا بکر اور اس کے باپ کی نماز یا عبادت قبول ہوگی یا نہیں؟ (۲) اگر روپیہ ادا کئے بغیر بکر کا انتقال ہو گیا تو شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۳) جو آدمی اس مشورہ میں شریک ہے اس کا کیا حکم ہے؟ (۴) شرعاً بکر کا بائیکاٹ ہونا چاہئے یا نہیں؟ (۵)
جواب
(۱) اگر ضرورت اور مصیبت سے مجبور ہو کر قرض لیا اور ادا کرنے کی نیت بھی تھی، تو شرعاً یہ کوئی عیب اور معصیت نہیں ہے، لیکن پھر قرض کی واپسی سے انکار کر دینا درست نہیں، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر اب واپس کرنے کے لئے موجود نہیں تو مہلت لے لی جائے، لیکن دوسرے کے روپے بالکل مار لینا سخت گناہ ہے، اگر باوجود قدرت کے نہیں دے گا، تو اس کی عبادت مردود نہیں ہوگی، بلکہ مقبول ہو کر قرض خواہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔