الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دین ادا کرنے میں ٹال مٹول

سوال

جلال پورفیض آباد میں اکثر عموماً مالی حیثیت سے پسماندہ بنکر (پارچہ باف) لوگ بستے ہیں مال فروخت کرنے میں ان کو دشواری یہ ہوتی ہے کہ یہاں کوئی ایسی آڑت نہیں کہ جس کے ہاتھ نقد مال فروخت کر سکیں، اس لئے وہ مجبوراً کسی آڑت پر ادھار مال فروخت کرتے ہیں، دوسری پریشانی یہ ہوتی ہے کہ انہیں نقد دام اگر نہیں ملتے تو مال کی قیمت از سکہ رائج الوقت ملنا چاہئے، مگر مال کی جگہ سوت دیتے ہیں، بلکہ سوت ہی لینے پر مجبور کرتے ہیں، تیسری بات یہ ہے کہ حسب مرضی ایک گٹھر دو گٹھر بازار کی قیمت سے بڑھا کر دیتے ہیں، چوتھی یہ کہ معاملہ کے وقت…

جواب

جس کا دین واجب الاداء ہو اور ادا کرنے کے لئے پاس موجود ہو پھر ٹال مٹول کرنا اور نہ دینا ظلم ہے، نیز نقد کے بجائے سوت لینے پر مجبور کرنا بھی ظلم ہے، ”لی الواجد يحل عرضه“ (الحديث) او كما قال عليه الصلوة والسلام، اس کے باوجود صاحب حق مجبور ہو کر ہی سہی اپنا حق بصورت سوت لینا منظور کر لیتا ہے، اور لے لیتا ہے، تو مدیون بری ہو جاتا ہے، اور اس کی آمدنی کو ناجائز نہیں کہا جائیگا، حق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو