ابراء کے بعد پھر مطالبہ
سوال
میں نے زید سے راب کی تجارت کی، اس میں کل رقم ساڑھے تین ہزار کی تھی جو میرے حصہ کی تھی، مگر وہ بے ایمان ہو گئے، اور انہوں نے میری رقم دبالی، جب وہ حج کو جانے لگے تب میں نے کہا کہ تم صاحب ثروت ہو میری رقم دیدو؟ مگر انہوں نے حیلہ حوالہ کیا، بعدہ میں نے یہ سوچ کر معاف کر دی کہ یہ اگر حج سے واپس آگئے تو دیکھا جائیگا، واقعہ یہ ہوا تھا، کہ جب دوران گفتگو کہنے لگے کہ مجھے تم معاف کر دو گے، میں نے ایک دم ان سے کہدیا کہ میں نے معاف کیا، اور نیت یہ تھی کہ واپس آکر خود شرمندہ ہو کر ادا کر دینگے، اب واپسی پر میں نے مطالبہ کیا…
جواب
جب رقم معاف کر دی ہے تو وہ معاف ہوگئی، اب مطالبہ کا حق نہیں رہا، اگرچہ بلا وجہ شرعی کسی کی رقم دبالینا اور باوجود وسعت کے مطالبہ پر بھی واپس نہ کرنا حرام اور ظلم ہے، لیکن آپ کو معاف کر دینے کے بعد اب مطالبہ نہیں کرنا چاہئے ”الساقط لا يعود“ (اشباه)، ”لا يحل مال امرأ مسلم الا بطيب نفس منه“الحدیث۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔