بدعات متعلقہ قبور عرس و غیره
سوال
زید کہتا ہے کہ قبر کو سجدہ جائز ہے، نذر لغیر اللہ جائز ہے، قبر کا چڑھاوا جائز ہے، سماع موجودہ زمانے کے مطابق جائز ہے، پیر و مرشد کو سجدہ جائز ہے، قرآن، حدیث اور فقہ حنفی کی رو سے ان کا جواب ارشاد فرمائیں۔ اگر یہ چیزیں ہر تینوں کی رو سے نا جائز ہیں تو زید مسلمان ہے یا نہیں؟ اور احناف کی جماعت میں شامل ہے یا نہیں؟ اور وہ لوگوں میں اپنے آپ کو حنفی ظاہر کرتا ہے، اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو عوام میں اعلان کر دینا ضروری ہے یا نہیں؟ (۲)
جواب
جو شخص امور مذکورہ کو جائز کہتا ہے، وہ ضال ومضل ہے اس کو امام بنانا جائز نہیں جب تک صدق دل سے توبہ نہ کرے۔ (۲) موجودہ رسم کے مطابق ختم بدعت اور مکروہ ہے کسی حدیث سے ثابت نہیں، علامہ علی قاری نے کوئی کتاب فتاوی اوز جندی تصنیف نہیں کی، فتاوی بزاز یہ میں ختم کو مکروہ لکھا ہے ”ویکرہ اتخاذ الطعام في اليوم الاول والثالث وبعد الاسبوع والاعياد ونقل الطعام الى القبر فى المواسم واتخاذ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔