عرس کرنا اور زیارت قبور کیلئے سفر
سوال
عرس کرنا یا لوگوں کو یوم متعین کر کے قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے بلانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اسی طرح بزرگوں کے مزار پر زیارت کے مقصد سے سفر کرنا، آیا جائز ہے اگر جواب نفی میں ہے تو آپ اس روایت کا کیا جواب دیں گے، کہ جس میں آپ ﷺ نے سفر کو اپنی زیارت، بیت الحرام کی زیارت، بیت المقدس کی زیارت کیلئے مخصوص کیا ہے؟
جواب
عرس کرنا یا دن متعین کر کے لوگوں کو قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے مدعو کرنا، قرون مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں، حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب نے مائہ مسائل میں بدعت ممنوعہ فرمایا ہے۔ تبلیغ الحق، میں بھی شدت سے منع فرمایا گیا ہے، فتاوی عزیزی میں بھی شاہ عبدالعزیز صاحب نے اس پر کلام کیا ہے، علامہ شامی نے بھی اس پر نکیر کی ہے۔ زیارت قبور کی ترغیب حدیث میں آئی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔