عرس،قوالی،طبلہ،سارنگی بجانا
سوال
عرس کرنا،قوالی، طبلہ سارنگی بجانا، علماء دیوبند اور دیگر علماء احناف کے نزدیک ایسے مقامات پر شریک مجلس ہونا جہاں یہ افعال ہوتے ہیں، عندالشرع جائز ہے یا نہیں، اگر کوئی امام مذکورہ افعال کو برا نہ سمجھے اور لوگوں کو شرکت سے نہ روکے تو اس کی امامت میں اقتداء درست ہے، یا مکروہ ہے!
جواب
یہ عرس اور قوالی کرنا طبلہ اور سارنگی بجانا اور اس کا سننا اور ایسی محفلوں میں شریک ہونا سب ناجائز اور بدعت ہے، علامہ شامی نے تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں اس کو منع لکھا ہے، فقہ حنفیہ کی مشہور ومعتبر كتاب سكب الانهر شرح ملتقى الابحر، ج ۲ / ص ۵۵۱ / میں ہے”لا اصل له فى الدين زاد في الجواهر وما يفعله متصوفة زماننا حرام لا يجوز القصد والجلوس اليه ومن قبلهم لم يفعله كذلك“ ”فتاوی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔