عرس وغیره
سوال
بزرگان دین کے عرسوں میں شریک ہو کر وہاں کچھ کھانا پکا کر اور اس کو فی سبیل اللہ بغیر کسی خرافات کے تقسیم کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ اور اس کا ثواب بزرگان دین کی ارواح کو پہنچانا درست ہے یا نہیں؟
جواب
مزارات پر جا کر کھانا پکوانا کھانا لے کر وہاں جانا اور تقسیم کرنا بدعت اور نا جائز ہے، ایصال ثواب کے لئے تاریخ مقرر کر کے اس کو شرعی حیثیت دینا درست نہیں، عرس کرنا بدعت ہے، بلا کسی غیر ثابت پابندی کے جب دل چاہے ایصال ثواب کرنا، خواہ غریبوں کو کھانا،غلہ، کپڑا، نقد یا کسی بھی ضرورت کی چیز دے کر ہو یا قرآن پاک تسبیح نماز پڑھ کر ہو یا حج کر کے ہو غرض ہر نیک کام کر کے شرعاً درست…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔