ولادت، وفات پر خوشی اور غم، عرس، قوالی وغیرہ
سوال
بارہویں ربیع الاول یا سال کے کسی اور دن کے اندر متعین کر کے حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور پیر مرشد کی ولادت یا وفات یا اور کسی اہم واقعہ کے تحت اگر عرس کیا جائے یا انفراداً اگر اس خاص دن کے اندر خوشی یا رنج کیا جائے، اور مسلمانوں سے چندہ کر کے عرس کے اخراجات کئے جائیں، اور لوگوں کی دعوتیں کی جائیں، قرآن خوانی یا غزل و قوالی پڑھنے والوں کو ہدیے پیش کئے جائیں، تو چند امور دریافت طلب ہیں۔ (۱)
جواب
(۱) قلبی رنج و خوشی غیر اختیاری ہے اس کی کوئی شرعی حد نہیں، البتہ کسی کی وفات پر سوگ منانا، ترک زینت کرنا، ماتمی لباس پہننا مرد کو قطعاً جائز نہیں، عورت کو شوہر کی وفات پر ترک زینت کرنے کی مدت تا اختتام عدت ہے، اس کے بعد نہیں شوہر کے علاوہ کسی اور کی وفات پر ترک زینت تین روز تک مباح ہے، اس کے بعد نا جائز اور اس تین دن میں بھی شوہر کو منع کرنے کا حق حاصل ہے”ويباح الحداد على…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔