قیام میلا د کا حکم
سوال
مسئلہ قیام میلاد بدعت حسنہ ہے یاسیئہ اگر بدعت سیئہ کہتے ہیں تو اس صورت میں تعامل، توارث اور اجماع کے خلاف لازم آئیگا، کیونکہ قیام میلاد کے اوپر اجماع ہو چکا ہے، جیسا کہ تفسیر روح البیان میں ہے، ص ۳۸ / ج ۴ / ” وقد اجتمع عند الامام تقی الدين السبكي جمع كثير من علماء عصره فانشد منشد قول الصرصري قليل المدح الخ فعند ذلك قام الامام السبكى وجميع من بالمجلس ويكفى ذلك في الاقتداء وقال ابن حجر الهيثمى ان البدعة الحسنة متفق على مذهبها (مولود برزنجی، ص ۲۹)
جواب
یہ مروجہ میلا د نہ قرآن کریم سے ثابت ہے، نہ حدیث شریف سے ثابت ہے، نہ خلفاء راشدین و دیگر صحابہ کرام ﵃ سے ثابت ہے، نہ تابعین وائمہ مجتہدین (امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد، و غیر ہم) سے ثابت ہے نہ محدثین (امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابوداود، امام نسائی، امام ابن ماجہ وغیرہ)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔