ایصال ثواب کیلئے تاریخ متعین کرنا اور اوقات مدرسہ میں مدرسین وطلبہ کو ایصال ثواب کرنا
سوال
خاص وعام میں سے جب کسی کا انتقال ہو جائے تو اکثر مساجد اور مدارس میں بالغ ونابالغ سب کو جمع کر کے قرآن شریف ختم کراتے ہیں، احادیث شریفہ میں ایصال ثواب مطلق آیا ہے، اس میں چند شبہات پیش آتے ہیں، جو حسب ذیل ہیں۔ (۱) اس ہیئت کے ساتھ قرآن شریف ختم کرنا اور اسکا ثواب پہنچانے کا ثبوت زمانہ خیر القرون سے ثابت ہے یا نہیں؟ (۲) اگر زمانہ خیر القرون سے ثابت نہ ہو تو بدعت ہے یا نہیں؟ (۳) جب سب ایک جگہ جمع ہو کر پڑھیں گے تو ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا “کے خلاف ہوگا یا نہیں؟
جواب
(۱) (۲) ایصال ثواب کا جو طریقہ مروج ہے یعنی میت کے انتقال سے تیسرے روز جمع ہو کر تلاوت قرآن کی جاتی ہے، اور چنوں پر تسبیح پڑھی جاتی ہے، خیر القرون سے اس کا ثبوت نہیں، لہذا اس ہیئت کے ساتھ ایصال ثواب کرنا بدعت ہوگا۔ ”كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة“۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔