ایصال ثواب کے لئے مجلس
سوال
ہمارے علاقہ گجرات میں ختم قرآن کریم کر کے ایصال ثواب کا طریقہ یہ ہیکہ مسجدوں میں بورڈ پر یہ اعلان لکھ دیا جاتا ہے، کہ مثلاً آج نماز جمعہ یا نماز عشاء کے بعد فلاں صاحب کے ایصال ثواب کیلئے ختم قرآن کی مجلس رکھی گئی ہے، بعد ختم قرآن کے نہ کوئی شیرینی ہوتی ہے اور نہ کوئی رسم ورواج ہے تو مجموعی طریقہ سے ختم قرآن کر کے ایصال ثواب کرنا اور از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ بعض حضرات اہل علم اسپر نکیر کرتے ہیں لیکن جب کوئی اہم شخصیت انتقال کر جاتی ہے، تو خود ہی اہتمام کر کے قرآن کی مجلس کا انعقاد کرتے ہیں؟
جواب
جو حضرات اسپر نکیر کرتے ہیں اور کسی اہم شخصیت کیلئے اسکا اہتمام بھی کرتے ہیں، تو ظاہر ہے کہ نکیر کس درجہ حقیر ہے، صورت مسئولہ میں قرآن خوانی کیلئے بلایا نہیں جاتا، بلکہ لوگ نماز عشاء یا نماز جمعہ پڑھنے کیلئے آتے ہیں، ان سے درخواست کی جاتی ہے، کہ ہماری میت کیلئے ایصال ثواب بھی کرتے جائیں، اسمیں کوئی مضائقہ نہیں، میت کو نفع ہوتا ہے، پڑھنے والوں کو ثواب بھی ملتا ہے، حدیث شریف میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔