کیا تقدیر پر ایمان لانے سے جبر لازم نہیں آتا؟
سوال
لا يرد القضاء الا الدعاء اس حدیث شریف کا مطلب وتشریح تفصیل سے بیان فرمائیں، احقر اپنے ناقص خیال میں اس کا مطلب یہ سمجھا کہ تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز رد نہیں کر سکتی، تو کیا تقدیر میں جو لکھا ہوا ہے اس کے خلاف ہو سکتا ہے، ایک صاحب کیلئے یوں لکھا ہوا ہو کہ میں فلاں شخص کو قتل کروں گا، تو میں قتل پر مجبور ہوں، کیونکہ میری تقدیر میں یوں ہی لکھا ہوا ہے، تو اس صورت میں میں گنہگار کیوں؟
جواب
اہل تحقیق کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ قضا بدلتی نہیں، اگر بدلتی تو دعا سے بدل جاتی، یعنی قضا کی پختگی کو بتانا ہے، نیز دعا کی اہمیت کو ذہن نشین کرانا ہے، شروح حدیث مشکوۃ کی شرح مرقات وغیرہ میں تفصیل مذکور ہے۔ تقدیر میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے، مگر کسی کو نہیں معلوم کہ کیا لکھا ہوا ہے، اسلئے خواہش طبعی کے موافق گناہوں پر قصداً اقدام کرنا اور یہ کہنا کہ تقدیر میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔