کیا تقدیر میں تبدیلی ممکن ہے؟
سوال
تقدیر کسے کہتے ہیں؟ کیا تقدیر میں تبدیلی ممکن ہے؟ الف: اثبات کی شکل میں ان احادیث وآیات سے تعارض ہوتا ہے جن میں تقدیر کا نہ بدلنا وارد ہے، جیسے ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کچھ صحابہؓ نے اپنی جنسی چیزوں کو ختم کرانے کے ارادے کئے، اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز مقدر ہو چکی ہے، وہ ہر حالت میں ملے گی، اسی طرح قرآن کا اعلان ”مايبدل القول لدی، پ ۲۶“ ب: نفی کی شکل میں ان احادیث سے تعارض ہوتا ہے، جن میں وارد ہے کہ تقدیر بدل سکتی ہے، جیسے لا يرد القضاء الا الدعاء وغیرہ۔
جواب
علم الہی میں ہر شئے کے لئے ایک نقشہ ہے کہ اسکا اس طرح ظہور ہوگا، اس کو تقدیر کہتے ہیں۔ اس نقشہ میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ مگر کوئی چیز مطلق ہوتی ہے، جس کا اظہار پہلے سے کارکنان قضاء وقدر پر بھی بسا اوقات نہیں ہوتا، اور قلوب قدسیہ پر بھی انکشاف نہیں ہوتا، اور وہ عدم ظہور تعلیق کی وجہ سے اس کو مبدل سمجھ جاتے ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔