انسان مختار ہے یا مجبور؟ / انسان مجبور محض نہیں / خلقت انسان کی غایت
سوال
(۱) زید معتقد ہے کہ دنیا میں جب میری پیدائش نہیں تھی، قبل پیدائش نہ میں فرشتہ تھا نہ جنات، نہ کوئی جانور، نہ پتھر، غرض یہ کہ کچھ بھی نہیں تھا، گویا میرا وجود ہی نہیں تھا، جبکہ لاشئی محض ہوا تو نہ مسلمان ہونے سے مطلب نہ کافر ہونے سے مطلب، نہ دوزخ سے کوئی غرض نہ جنت سے۔ اب جبکہ اللہ ﷻ نے دنیا میں میرا وجود بخشا اور میں آدمی بن گیا تو مجھ کو مسلمان رہنا فرض ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع، قرآن وحدیث کو ماننا، جنت اور دوزخ پر ایمان لانا وغیرہ سب ضروری ہوگا، زید کا دل تصدیق کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم…
جواب
(۱) زید از خود بے علم ہے، اس کو خبر نہیں کہ دنیا میں آنے سے کیا فائدہ، اس کا مقصد حیات تو وہ جانتا ہے، جس نے اس کو پیدا کیا ہے، اور اس نے اس مقصد کو بتا بھی دیا ہے، اگر زید اپنے اختیار سے پیدا ہوتا، تو وہ خود مقصد تجویز کرتا، جب ایسا نہیں ہے تو اس کو خود تجویز کرنے کا حق ہی نہیں ہے، جو حکم زید کو دیا گیا ہے، اس پر پابندی سے عمل کرتا رہے، اس کی تقدیر میں کیا لکھا ہے، اس کا وہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔