زکوة و عشر و مصرف کی تحقیق
سوال
(۱) زمینی پیداوار کی زکوۃ چالیسواں حصہ ہے یا بیسواں حصہ اور کن شرائط کے ساتھ یعنی کیا موجودہ حکومت کا لگان اور مال گذاری دینے کی حالت میں بھی زکوۃ کی وہی مقدار ادا کرنی پڑے گی، جو اسلام نے اسلامی حکومت میں مقرر کی ہے؟ (۲) زمینی پیداوار میں صرف غلہ مثلاً گیہوں اور چنا وغیرہ کا شمار ہے یا ادرک اور آلو وغیرہ بھی زمینی پیداوار میں شامل ہے۔ (۳) زمینی پیداوار کی زکوۃ کب فرض ہوتی ہے، حاصل ہونے کے ساتھ ہی یا سال بھر تک کھانے پینے سے اگر بچے اس وقت۔ (۴)
جواب
(۱) جو غلہ وغیرہ عشری زمین سے پیدا ہو خواہ اس کے پیدوار بارش کے پانی سے ہوئی ہو یا قدرتی نہر وغیرہ کے پانی سے بلا قیمت ہوئی ہو اس میں زکوۃ واجب ہے، اور وہ پیداوار کا دسواں حصہ ہے: قال ابو حنيفة رحمة الله عليه وفي قليل ما اخرجته الارض وكثيره العشر سواء سقى سيحا اوسقته السماء (هدايه ص : ۱۸۱، ج ۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔