الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باغ اور زمین کی پیداوار میں زکوۃ

سوال

زید ڈیڑھ سو بیگہ زمین کا زمیندار یا کاشتکار تھا اس کے پاس مال گذاری سال وار ضروری اخراجات خانگی کے بعد ہزاروں میں غلہ بچتا تھا، اسی طرح معمولی کمی بیشی کے ساتھ ہر سال بچت ہوتی ہے، وہ غلہ فروخت بھی نہیں کرتا خانگی ضرورت کے لئے کبھی فروخت کرتا ہے تو بقدر ضرورت سالوں کا پرانا غلہ اس کے پاس فروختگی کے بعد کئی کئی نصاب کی قیمت کا موجود ہے، تو کیا اس حالت میں اس کے اوپر غلوں میں زکوۃ ہے اسی طرح ضرورت سے زائد اس کے پاس باغ ہیں جن کی قیمت کئی نصابوں کو پہنچتی ہے، آیا ان باغات میں بھی زکوۃ ہے واجب ہوگی تو کسی صورت سے؟

جواب

جو غلہ تجارت کے لئے نہیں اس میں زکوۃ فرض نہیں، خواہ وہ کتنی بھی مقدار میں ہو، یہی حال زمین، کھیت، باغ کا ہے، البتہ زمین اور باغ کی پیدوار میں عشر واجب ہوگا، اگر وہ عشری ہے اور اس میں قیمت کا اعتبار نہیں بلکہ کل پیدوار کا عشر واجب ہوتا ہے، خواہ کتنی ہی پیداوار ہو اور اس کی قیمت کتنی ہی ہو، (البسط في رد المحتان)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو