مستقبل کی ضرورت کیلئے پس انداز کرنے والی بیوہ کیلئے زکوۃ کا حکم
سوال
مسماۃ زاہدہ خاتون کے شوہر کا عرصہ چار سال قبل انتقال ہوا، مرحوم نے کوئی جائیداد از قسم مکان اور نقدی زیور کچھ نہیں چھوڑا البتہ تین بچے دو بچیاں ان کی یادگار ہیں جو ابھی نابالغ ہیں بیوہ اور بچوں کا خرچ مرحوم کے بڑے بھائی دو سو روپیہ ماہوار مرحوم کے بعد سے اب تک دے رہے ہیں، اس خرچے سے تھوڑا تھوڑا کفایت کر کے اب تک اس غرض سے بچا رہی ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں ہیں، رہنے کا کوئی مکان نہیں، یا ان کی تعلیم بیاہ شادی وغیرہ کرنا ہے، لہذا اب تک دو ہزار روپیہ یا اس سے کچھ زیادہ پس انداز کر چکی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ…
جواب
اب بیوہ کو زکوۃ لینا جائز نہیں، بیوہ پر خود زکوۃ واجب ہوگئی اگر نابالغ بچوں اور بچیوں کو وہ روپیہ دے کر اپنی ملک ختم کر دے، اور خود بطور محافظ وامین اپنے قبضہ میں رکھے تو بیوہ پر زکوۃ نہیں ہوگی اور وہ مستحق زکوۃ رہے گی اور بالغ ہونے سے پہلے ان بچوں بچیوں پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔