الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شریک کو زکوة دینا

سوال

(۱) زید اور بکر ماموں بھانجے ہیں ایک ہی مکان میں جو بکر کی ملک ہے دونوں رہتے ہیں بکر نادار اور غریب ہے کیا اسی مکان کی مرمت میں جب کہ مرمت سے دونوں کا فائدہ ہے، زید بکر کوزکوۃ کی رقم دے سکتا ہے اور بکر اس رقم کو مرمت وغیرہ میں لگا سکتا ہے؟ (۲) زید اور بکر دونوں کا کھانا مشترک تیار ہوتا ہے کیا زید بکر کو زکوۃ کی رقم سے خورد و نوش کا سامان منگوا سکتا ہے اور دے سکتا ہے؟

جواب

(۱) بھانجا اگر ماموں کو زکوۃ دے تو شرعاً درست ہے بشرطیکہ کسی دباؤ سے نہ ہو، پھر ماموں کو اختیار ہے کہ مکان کی تعمیر وغیرہ میں جہاں چاہے صرف کرے۔ (۲) اگر زکوۃ کا پیسہ بکر کو دید یا پھر اس نے سامان خریدا اور زید کے ساتھ مشترکہ طور پر وہ کھانا پکایا گیا تو شرعاً درست ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو