الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نادار لوگوں کی امداد کے لئے چندہ

سوال

تقریباً پانچ سال قبل ایک آدمی کو کسی نے قتل کر دیا، مقتول کے پیچھے ایک بیوی اور ان کی والدہ اور پانچ لڑکے اور دولڑکی ہیں، قوم کے مخلصین اور ہمدردان نے قاتل کے پاس سے مقتول کی اولاد کو معقول رقم دلوائی ان لوگوں نے اس رقم کو مقتول کی اولاد کے نام بحساب ذیل انویسٹ کئے اور مسجد یا مدرسہ ٹرسٹ کی تحویل میں دیدیا کہ یہ ٹرسٹ اس کی حفاظت کرتا رہے، اور اور اسکی کی اولاد کو ذیل کے حساب کے مطابق جب ۱۸ سال کی عمر ہو جاوے ان کا حصہ ان کو دیدیا جاوے، ان رقوم کو اس طرح مقتول کی اولاد کے نام جمع کیا ہے، فی لڑکا ۳۰۰۰/ ہندوستانی…

جواب

(۱) اگر ان کے اخراجات کیلئے یہ رقم کافی نہیں بلکہ خرچ زیادہ ہے تو ان کے لئے چندہ کرنا شرعاً درست ہے۔ (۲) جبکہ اس رقم میں ضروریات پوری نہ ہوں تو زکوۃ وصدقات کا دینا بھی درست ہے، اگر یہ رقم ضرورت سے زائد ہے، تو مستحق زکوۃ نہیں اس صورت میں زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ (۳) مستحق نہ ہونے کی صورت میں ان کو زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی (۴)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو