الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کرایہ پر لگے ٹرک کی زکوۃ ہے یا نہیں؟

سوال

(۱) اگر کسی شخص کے پاس دو یا تین ٹرک ہیں اور وہ صرف اس ٹرک پر ہی کام کرتا ہے یعنی مثلاً مراد آباد تا دہلی یا کہیں اور مال ڈھونے پر ہی رہتا ہے، تو آیا اسی ٹرک کی آمدنی پر زکوۃ واجب ہوگی یا بذات خود کل ٹرک کی قیمت پر زکوۃ واجب ہوگی۔ (۲) کیا کرایہ مکان اور ٹرک کا ایک ہی حساب ہو گا یا کچھ فرق ہوگا۔ (۳) تجارت کے مال کا کیا حساب ہے اور کس طرح سے حساب لگا کر زکوۃ نکالی جائے۔

جواب

(۱) وہ ٹرک فروخت کرنے کے لئے نہیں ہے، اس پر زکوۃ نہیں، اس کی آمدنی اگر بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر) حاجت اصلیہ سے زائد سال بھر رہے تو اس پر زکوۃ لازم ہوگی۔ (۲) دونوں کا حال ایک ہی ہے جو کہ نمبر ۱ میں مذکور ہوا۔ (۳) سال بھر پورا ہونے پر کل مال اور نقد کا چالیسواں حصہ زکوۃ میں ادا کیا جائے یعنی ڈھائی روپیہ کی مقدار سو روپیہ میں سے دی جائیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو