شیرز کی بیع اور ان کی زکوۃ
سوال
ہمارے یہاں شیرز کی ایک کمپنی ہے اس کے ایک شیرز کی قیمت مثلاً دس روپیہ ہے تو زید نے دس شیرز خریدے وہ کمپنی منافع کچھ نہیں دیتی مگر جب اسکو بیچتے ہیں تو اگر کمپنی کو نفع ہوتا ہے تو وہ نفع دیتی ہے اور اگر نقصان ہوتا ہے تو نقصان کے ساتھ اصل روپیہ کو واپس کرتی ہے تو اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو جب وہ روپیہ مل جاوے گا تو زمانہ ماضی کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی یا نہیں؟ اور اگر ملنے سے قبل اس کی زکوۃ ادا کرے تو نفع کے حساب سے یا نقصان کے حساب سے ادا کریں؟ (۲)
جواب
(۱) اگر کوئی کمپنی تجارت کرتی ہے اور اسی مقصد کے لئے دس دس روپیہ کا لوگوں کو شریک بناتی ہے اور روپیہ کے مقدار کے اعتبار سے ہی نفع و نقصان کی تعیین کرتی ہے تو یہ صورت جائز ہے بشرطیکہ تجارت بھی جائز ہو شراب وغیرہ کی تجارت نہ ہو، ہر شخص کو اپنے اپنے رأس المال کی ہر سال زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے نفع اگر ہر سال ملتا ہے تو اس کو بھی اصل ہی میں محسوب کر لیا جاوے اگر نفع ہر سال نہیں ملتا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔