گھر کے سامان میں زکوۃ
سوال
زید کہتا ہے کہ زکوۃ صرف زیور پر واجب ہے، سونے کی شکل میں ہو یا چاندی کی صورت میں لیکن بکر کہتا ہے کہ زیور پر، کپڑوں پر ہے چاہے استعمال کے ہوں یا نئے رکھے ہوں، اور برتنوں پر جو کہ استعمال میں آرہے ہیں، یا وہ برتن جو یوں ہی رکھے ہوئے ہیں یا گھر کے استعمال کی الماریاں ہوں یا صندوق غرضیکہ جو بھی اشیاء ہوں سب پر زکوۃ واجب ہے۔
جواب
چاندی، سونا، نقد، (نوٹ) اور مالِ تجارت پر زکوۃ واجب ہوتی ہے گھر کے استعمالی سامان کپڑوں، برتنوں، صندوقوں وغیرہ پر زکوۃ نہیں، اگر چہ وہ ویسے ہی رکھے ہوں استعمال میں نہ ہوں: قوله فارغ عن حاجته الاصلية وفسّره ابن مالك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقاً او تقديراً اى فسر المشغول بالحاجة الاصلية والاولى فسرها وذلك حيث قال وهي ما يدفع الهلاك عن الانسان تحقيقاً كالنفقة ودور السكنى والات…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔