شیرز کی زکوة
سوال
کچھ ایسے تجارتی ادارہ ہیں جو شیرز میں سمجھتے ہیں شیر مین کو عام زبان میں ساجھا کہا جا سکتا ہے اس ادارہ میں جو رقم لگائی جاتی ہے اس پر منافع ملتا ہے اس ساجھے داری کی حیثیت بدلتی رہتی ہے، مان لیجئے میرے پاس ایک سو روپیہ کے شیر زمین ہیں ادارہ کی مقبولیت کی وجہ سے یہ شیر مین ایک سو پچیس روپیہ میں بازار میں بیچے جاسکتے ہیں، تو کیا اس شیر مین کی رقم پر بھی زکوۃ دی جائے گی اگر ہاں تو کس رقم پر جس پر میں نے خریدے یا مجھے جو بازار میں مل سکتے ہیں۔
جواب
یہ بھی تجارت کی ایک شکل ہے جس وقت سے آپ حصہ دار ہوئے سال گزرنے پر اس کی جو قیمت بازار میں ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔