مقدار نصاب اور دین اور مال صبی میں زکوۃ کا حکم
سوال
کاشتکار جو کہ سرکاری لگان بھی دیتا ہے کیا اس پر بھی زکوۃ واجب ہے کیونکہ لگان جبراً نا جائز طور پر لی جاتی ہے، اگر ہے تو کتنا اور کس مقدار میں اور کتنے غلہ پر وجوب ہوتا ہے، اگر ایک شخص نوکری کرتا ہے اور ہمیشہ پچاس روپے ملتے ہیں تو زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟ اور جو شخص کھیت والا ہے یعنی بطور قبالہ یا بطور رہن ہے تو وہ صاحب نصاب ہوگا اور زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
جواب
جو غلہ غیر شرعی زمین میں پیدا ہوتا ہے اس میں عشر نہیں ہوتا غلہ میں عشر ہوتا ہے زکوۃ نہیں ہوتی، بشرطیکہ عشری زمین میں ہو اور جس شخص کے پاس مقدار نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو یا اتنی قیمت کا تجارتی مال ہو اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے بشرطیکہ سال پورا گذر جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔