الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جو روپیہ نابالغ کو دیدیا اس کی زکوۃ نہیں

سوال

زید نے پینشن یا پراویڈنٹ فنڈ سے مندرجہ ذیل طریقہ سے روپیہ خرچ کیا۔ (۱) مکان خریدا جس کا کرایہ سو روپیہ ماہوار ملتا ہے۔ (۲) پانچ ہزار روپیہ اپنی لڑکی کی تمام شادی کے لئے جمع کر دیئے، لڑکی زیر تعلیم ہے۔ (۳) پانچ تولہ سونے کے زیور لڑکی کو بنوا دیئے۔ (۴) چار ہزار روپیہ اپنے چھوٹے لڑکے کے نام جو کہ ابھی زیر تعلیم ہے، بینک میں جمع کرا دیئے، اب زید کو سوا سو روپیہ ماہوار پنشن ملتی ہے اور سو روپیہ مکان کا کرایہ آتا ہے، جس سے وہ اپنے اہلیہ کے اور دونوں بچوں کے اخراجات اٹھاتا ہے، اس کی بیوی کے پاس شادی کے وقت کے پانچ توله ۸…

جواب

جو روپیہ اور زیور زید نے اپنی ملک سے نکال کر دوسرے لڑکے لڑکی وغیرہ کی ملک میں دے کر اس کا اس پر قبضہ کرا دیا (یعنی ہبہ شرعی کر دیا) اس کی زکوۃ زید کے ذمہ نہیں، نابالغ کا قبضہ ضروری نہیں صرف زبان سے یہ کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے یہ روپیہ یا زیور اس کو دیدیا ہے، اتنا کہنے سے بھی ہبہ صحیح ہو جاتا ہے، نابالغ کے مال میں زکوۃ نہیں ہے، جب وہ بالغ ہو جائے تب لازم ہوگی اور کرایہ کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو