نابالغ کے نام روپیہ بینک میں جمع کیا اس پر زکوۃ
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے اپنے نابالغ لڑکے کے نام سے بینک یا ڈاک خانہ میں روپیہ جمع کیا ہے، اور وہ روپیہ نصاب سے زیادہ ہے تو اب اس روپیہ کی زکوۃ زید دے گا یا اسکا نابالغ لڑکا دے گا؟ دے گا اور ڈاکخانے والے اس روپیہ کا سود بھی دیتے ہیں اگر نہ لیا جائے تو وہ اپنے مشن وغیرہ میں لگا دیتے ہیں اگر سود لے کر کسی غریب وغیرہ کو دیدیا جائے اور ثواب کی امید نہ رکھی جائے تو کوئی حرج ہے؟
جواب
اس صورت میں وہ نابالغ لڑکا اس روپیہ کا مالک ہو گیا، نابالغ پر زکوۃ واجب نہیں، لہذا اس کی زکوۃ نہ زید دے گا نہ وہ نابالغ لڑکا سود کے نام پر جو کچھ وہاں سے ملے اس کو وصول کر لیا جائے پر احتیاط یہ ہے کہ اس کو محفوظ رکھا جائے، جب لڑکا بالغ ہو جائے تو وہ خود ہی روپیہ غریبوں کو دیدے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔