بیٹے کے نام سے بینک میں روپیہ جمع کیا تو زکوۃ کس پر؟
سوال
ایک شخص کے نام اس کا باپ گورنمنٹ کے بینک میں روپیہ جمع کرتا ہے روپیہ جمع کرنے کی شرط اور وصول کرنے کی پہلے استفتاء میں مذکور ہو چکی ہے، سوال یہ ہے کہ اس شخص کے نام اس کے باپ نے اس کے بچپن میں روپیہ جمع کیا اس میں زکوۃ ہے تو کس پر؟ اس شخص کے نام روپیہ جمع ہونا بند بھی ہو سکتا ہے، اس شخص کی ضروریات شادی وغیرہ میں روپیہ نکالنے کا حق باپ ہی کو رہتا ہے، نکالتے وقت مقدار نقد گورنمنٹ کے یہاں سے منظور کرانی پڑتی ہے پھر دینا ہوتا ہے، پنشن یا موت سے پہلے نہ باپ نکال سکتا ہے اور نہ بیٹا، یہ شخص فی الوقت نادار بھی ہے اور…
جواب
صورت مسئولہ میں روپیہ بچہ کی ملک نہیں، بلکہ باپ ہی کا ملک ہے، لہذا باپ ہی پر زکوٰۃ واجب ہے، جب بچہ بڑا ہو کر روپیہ پر قبضہ کرلے گا اس کی زکوۃ بعد حولان حول خود اس پر واجب ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔