مکان کے لئے جمع رقم پر زکوۃ
سوال
انڈیا کا ایک آدمی انگلینڈ میں ہے اس کے پاس ۸ ہزار روپیہ بنک میں جمع ہے، اب اس شخص کا ارادہ وہاں مکان بنانے کا ہے ممکن ہے کچھ قرض بھی ہو جائے، تو اب اس جمع کردہ پیسوں پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟
جواب
خرچ کرنے سے پہلے جب اس جمع شدہ روپیہ پر سال بھر گزر گیا تو اس پر زکوۃ فرض ہو گئی، زکوۃ ادا کر کے پھر مکان وغیرہ بنائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔