مالک زمین مقروض پر زکوة
سوال
ایک شخص کے پاس اسی نوے بیگھہ زمین ہے وہ اسکا مالک ہے لیکن چار پانچ ہزار روپے کا مقروض ہے اور وہ اس زمین کی پیداوار سے بمشکل تمام اپنی ضروریات پوری کرتا ہے اور تھوڑا بہت جو کچھ بچتا ہے اس کو وہ بسلسلۂ قرض قرض خواہوں کو دید یتا ہے، تو ایسا انسان شرعی طریقہ پر صاحب نصاب سمجھا جائے گا یا نہیں؟ اور اس پر زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟
جواب
ایسے شخص پر زکوۃ، قربانی وغیرہ واجب نہیں بلکہ وہ خود مستحق زکوۃ ہے: ولا زکوة في ثياب البدن واثاث المنزل ودار السكنى ونحوها كالحوانيت والعقارات. درمختار شامی .
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔