الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مقروض دیوالیہ پر زکوۃ و قربانی کا حکم

سوال

زید آج سے پہلے دس ہزار کا مقروض تھا اور قرض خواہوں نے حکومت میں مقدمہ دائر کرایا تھا مگر زید کے پاس کوئی ایسی ملک نہ تھی کہ حکومت کے قانون کے موافق قرض خواہوں کو دیجاتی اس وجہ سے حکومت کا قانون زید سے اٹھ گیا، اب زید فی الحال کچھ رقم یعنی پانچ ہزار کا مالک ہوا ہے، مگر قرض خواہوں کو رقم ادا کرنے میں وہ رقم پوری نہیں ہو سکتی، ایک قرض خواہ کو کچھ رقم دے تو دوسرا قرض خواہ پریشان کرتا ہے، اور زید کے پاس اتنی رقم نہیں کہ سب کو ادا کر سکے، سوال یہ ہیکہ زید اس پانچ ہزار کی زکوۃ، فطرہ قربانی وغیرہ ادا کرنا چاہے تو ہو سکتا…

جواب

قانون سرکاری کی رو سے اگر کوئی قرض خواہ اپنا قرض وصول نہ کر سکے، تو زید شرعاً سبکدوش نہیں ہوا، بلکہ زید کے ذمہ حتی الوسع اس کی ادئیگی فرض ہے، اور جب تک قرض سے فاضل مقدار نصاب نہ ہو ز کوۃ فرض نہیں ہوگی۔ لہذا زید کو چاہئے کہ اولاً جس ترکیب سے مناسب اور مصلحت ہو قرض خواہوں کا قرض ادا کرے، پھر اگر فرض ہو زکوۃ ادا کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو