بنک میں جمع روپے پر زکوۃ
سوال
ایک شخص کے پاس ایک ہزار روپے ہیں اور ان روپیوں پر ابھی ایک سال نہیں گذرا کہ زکوۃ اسپر فرض ہو جائے بلکہ چھ ماہ یا نو ماہ ایک سال سے کم ہے، اور اس نے اس روپے کو بینک یا مسلم فنڈ میں جمع کر دیا ہے، بقیہ ماہ سال کے پورے ہوتے ہیں، لہذا جب بینک میں پہنچ کر ایک سال پورا ہو جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہو جائے گی یا نہیں؟ یا اپنے پاس موجود رہنا شرط ہے، جب کہ وہ روپیہ بینک میں جمع شدہ اپنی ملکیت ہے یا ملکیت سے خارج ہو جاتا ہے کیا حکم ہے؟
جواب
جب بینک میں جمع کیا ہے تو اس کو ہر وقت لینے پر قدرت ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ اپنے پاس ہوتا، پس اس کی زکوۃ ادا کرتا رہے جتنے ماہ سال پورا ہونے میں باقی ہیں جب وہ پورے ہو جائیں تو زکوۃ ادا کر دے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔