قبرستان کے باغ کی آمدنی سے امام و مدرس کی تنخواہ
سوال
ایک شخص نے مدرسہ اور مسجد میں امامت کی مسجد اور مدرسہ کے منتظمین نے تنخواہ ماہانہ قبرستان کے فنڈ سے دی۔ یہ باغ اس نیت سے لگایا گیا قبرستان میں کہ اس کی آمدنی سے مدرسہ اور مسجد کا خرچ چل سکے، ایک صاحب نے فتویٰ منگایا۔ فتوی میں جواب یہ آیا کہ قبرستان کی آمدنی قبرستان ہی میں صرف کی جائے گی اس کے علاوہ مدارس و مسجد میں صرف کرنے کا کوئی مجاز نہیں ہے اور وہ شخص جس نے فتویٰ منگایا تھا امام مسجد سے بتایا کہ ڈیڑھ ماہ سے جتنی نمازیں میں نے تمہارے پیچھے پڑھی ہیں، وہ بس میں نے لوٹائیں، اس کا کہنا ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز…
جواب
اس مسئلہ کی وجہ سے مسجد یا مدرسہ سے علیحدگی کی کوئی ضرورت نہیں، تنخواہ کے متعلق معاملہ کر لیا جائے کہ اس فنڈ سے تنخواہ نہیں دیں گے جو نمازیں پڑھی جا چکی ہیں ان کے لوٹانے کی بھی ضرورت نہیں، جو صفیں اس فنڈ سے خریدی گئی ہیں ان کی قیمت اس فنڈ میں جمع کر دی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔