نماز عید اس محراب میں کہ کچھ قبریں سامنے ہوں
سوال
ایک قبرستان ہے اس کے پورب جانب ایک پتلا راستہ ہے جس پر بمشکل بیل آ اور جا سکتی ہے اب اس سڑک سے متصل نماز پنجگانہ یا عیدین کی نمازیں اداء کی جاسکتی ہیں، یا نہیں واضح ہو کہ راستہ اس قدر تنگ ہے کہ حالت قیام اور خشوع میں قبریں نظر آتی ہیں، نیز قبرستان کا کچھ حصہ راستہ میں بھی پڑتا ہے، جس میں پرانی قبریں ہیں، ایسی صورت میں کیا یہ پتلی سٹرک حد فاصل بن سکتی ہے، اور بلاکسی آڑ کے نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں، اگر پردہ ضروری ہے تو کتنا ہونا چاہئے، اور کہاں تک ہونا چاہئے۔
جواب
اگر راستہ میں کچھ حصہ قبرستان کا بھی آگیا ہے، جس میں پرانی قبریں ہیں، جن کے اب نشانات بھی ظاہر نہیں اور وہ راستہ تنگ ہونے کے باوجود ایسا ہے، کہ اس میں کو بیل گاڑی آ اور جا سکتی ہیں، تو اس سٹرک کے متصل نماز پنجگانہ وعیدین ادا کرنا اس طرح کہ نمازی اور قبرستان کے در میان سٹرک حائل رہے درست ہے حالت خشوع یہ ہے کہ نظر سجدہ گاہ پر رہے، پھر راستہ میں دوسری جانب کی قبریں کس طرح نظر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔