الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پاس ہونے پر طلبہ کا مدرس کو رقم دینا

سوال

ایک شخص اپنے کو قاضی شہر سمجھتا ہے ساتھ ہی ساتھ جامع مسجد اور عیدین کی امامت بھی کرتا ہے اور سرکاری مدرس بھی ہے۔ یہ شخص طالب علموں سے پاس کرانے کا معاوضہ لیتا ہے اور دوسرے ماسٹروں کو بھی اسی مقصد کے پیش نظر طالب علموں سے روپیہ لے کر دیتا ہے۔ کیا اس کا یہ عمل رشوت لینے اور دینے کی تعریف میں آتا ہے؟ ایسا شخص شریعت کی رو سے مذکورہ بالا عہدوں پر فائز رہ سکتا ہے؟ اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

دوصورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ روپیہ لیکر نا اہل اور غیر مستحق طلباء کو پاس کرا دیتا ہے کہ روپیہ دیں تو پاس ہو جائیں ورنہ فیل۔ یہ صورت تو رشوت اور حرام ہے۔ ایسا شخص مستحق امامت نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اپنی محنت اور قابلیت سے امتحان دے کر طلبہ پاس ہو جائیں اور وہ بطور شکرانہ اور اظہار مسرت مدرس کو روپیہ دیں تو یہ رشوت اور حرام نہیں بلکہ جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو