جو طالب علم اپنا سامان چھوڑ کر مدرسہ سے چلا جائے اس سامان پر اہل مدرسہ کا قبضہ
سوال
کوئی طالب علم کسی وجہ سے مدرسہ کو چھوڑ کر دوسرے مدرسہ میں چلا جائے اور اپنا سامان وغیرہ پہلے مدرسہ میں چھوڑ گیا ہو تو اس سامان کو مدرسہ کے مہتمم ضبط کر لیتے ہیں اور اس کے وارث بن جاتے ہیں۔ آیا مدرسہ والوں کی یہ حرکت شرعاً جائز ہے یا ناجائز یہ سامان ضبط کرنے میں مدرسہ والے حق بجانب ہیں، یا ظالم، یہ سامان ان کے لئے حلال ہے یا حرام جبکہ حضرت تھانوی نے دستور زندگی میں لکھا ہے کہ اگر کوئی کسی کے تین پیسے رکھ لے تو اس کے عوض میں سات سو نمازیں دی جائیں گی تو اس لحاظ سے مدرسہ والے اللہ تعالی کے یہاں ماخوذ ہوں گے یا نہیں۔
جواب
ان کو اس سامان کو ضبط کرنے کا کوئی حق نہیں ایسا کرنا غصب اور ظلم ہے۔ اگر اس چلے جانے والے کے ذمہ مدرسہ کا کوئی مطالبہ صحیح ہو تو اس کے وصول کرنے کا حق ہے، حضرت تھانوی نے جو تحریر فرمایا ہے۔ وہ صحیح ہے حدیث وفقہ سے ثابت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔