الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ کے پڑوسی کی دیوار میں نزاع

سوال

ایک اسلامی مدرسہ کی تعمیر ہو رہی ہے اس وقت ذمہ دارانِ مدرسہ نے برابر کے مکان والے سے کہا کہ تم اپنی کچی دیوار کو پختہ بنالو، کیونکہ ہم کو اس طرف غسلخانہ وغیرہ بنانے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ دیوار وغیرہ کو نقصان پہنچ جائے۔ اس نے جواب دیا کہ میں دیوار کو تو پختہ نہیں بناتا۔ مگر دیوار کی جگہ آپ کو دے سکتا ہوں۔ آپ اس کو پختہ بنالیں۔ مدرسہ کے ذمہ دار اس پر راضی ہو گئے۔ مگر انہوں نے کہا اس دیوار سے تم کو فائدہ ہوگا۔ کیونکہ اس طرف تمہارا مکان ہے۔ اس دیوار کی نصف اینٹوں کا خرچہ تم کو دینا ہو گا مگر صاحب مکان نے انکار کر دیا۔

جواب

جب مکان والے نے دیوار کے لئے مدرسہ کو جگہ دیدی تو وہ جگہ مدرسہ کی ہوگئی۔ پھر اہل مدرسہ کا اس سے اینٹوں کی قیمت یا مزدوری کا مطالبہ کرنا غلط تھا۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دیوار کو مشترک قرار دینا چاہتے تھے جو ہمیشہ کے لئے نزاع کی جڑ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو