الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پانی کے نل کی درستگی کے لئے دوسروں سے پیسہ لینا

سوال

ہمارے یہاں اسکول میں ایک نل ہے اس کا پانی پینے کے لئے عالم صاحب نے اپنے ہاتھ سے نل کھولا، بعد اس کے ٹھیک نہیں کر سکا اور مستری لا کر اس کو ٹھیک کیا اور مستری کو پیسہ دینے کے لئے ہر طالب علم سے دس پیسہ زبردستی لیا، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

جس نے نل خراب کیا درست کرانا بھی اسی کے ذمہ ہے دوسروں سے جبراً پیسہ لینا درست نہیں۔ ہاں اگر دوسرے لوگ اس کو درست کرانے کی اجرت خوشی سے دیدیں تو دوسری بات ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو