الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ ہے یا چوپال

سوال

ایک چوپال موضع شورم پٹی میر بخش میں مسجد سے ملحق ہے جس میں ہمیشہ سے دینی تعلیم ہوتی چلی آرہی ہے۔ اس کی مرمت مسجد کے پیسوں سے ہوتی ہے جائز ہے یا نا جائز۔ (۲) وقتا فوقتاً مسلمانوں کی بارات آتی ہے، تو بچوں کی چھٹی ایک دوروز کی کر دی جاتی ہے۔ (۳) تمام مسلمان ہمیشہ خوش رہے ہیں اور امداد دیتے ہیں کسی نے سر نہیں اٹھایا۔ (۴)

جواب

حقیقت حال تو خدا ہی کو معلوم ہے لیکن ظاہر صورت اور طرز عمل سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جگہ مدرسہ ہے اس میں دینی تعلیم ہوتی ہے اور مسجد کے پیسے سے اس کی مرمت کی جاتی ہے۔ کسی تقریب کے موقع پر اس کو مدرسہ سے عاریت پر لے کر مہمان کو ٹھہرایا جاتا ہے اور تعلیم کی چھٹی کر دی جاتی ہے۔ یہ تعلقات کی رواداری کی بات ہے۔ اس سے یہ سمجھنا کہ یہ چوپال ہے مدرسہ نہیں بظاہر درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو