نماز اور جنازہ کی تعلیم بصورت مکالمہ
سوال
لوگوں کے سدھار کے لئے مکالمے پیش کر کے اسے عملی شکل دی جائے تا کہ ذہنوں پر زیادہ اثر انداز ہو، تو کیا یہ جائز ہے۔ ایک مکالمہ نماز میں امامت کا پیش کیا۔ ایک شخص امامت کے لئے آگے بڑھا، نماز شروع کی، وہ تحریمہ چھوڑ گیا، پچھلے نے کہا چل کیا نماز پڑھاتا ہے میں پڑھاتا ہوں۔ پھر دوسرا صاحب بھی قراءت میں صریح غلطی کر گیا جس کو عوام بھی سمجھتے ہیں۔ تیسرے نے اس کو پیچھے کھینچ کر کہا تمہارے باپ نے بھی نماز پڑھائی ہے۔ یہ امام صاحب مسجد میں اتنی دیر پڑے رہے کہ لوگ سر اٹھا کر دیکھنے لگے۔
جواب
اس طرح مکالمہ اور عملی طور پر اختیار کرنا نماز کی توہین، استخفاف ہے اس کی اجازت نہیں۔ صحیح صحیح مسائل جیسے تعلیم الاسلام میں چھپے ہوئے ہیں ان کا مکالمہ بصورت سوال وجواب کرایا جائے جس سے مسائل پختہ ہو جائیں تو درست ہے۔ (۲) اس کی بھی عملی نقل نہ کی جائے کہ یہ تماشا بن جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔