مدرسہ کا قرض ادا کرنے پر جنت میں جانے کا وعدہ
سوال
مدرسہ آستانہ تقریباً آٹھ سو روپیہ کا مقروض تھا سالانہ جلسہ میں بیان کے بعد واعظ نے اعلان کیا کہ کوئی ہے جو جنت خریدے یعنی مدرسہ مذکورہ کا قرض ادا کر کے آٹھ سو روپیہ میں جنت خرید لے لہٰذا ایک سکھ کھڑا ہوا اور پورا قرض ادا کر دیا اب آپ تحریر فرمائیں کہ واعظ اس وعدہ کو کس طرح پورا کریں گے اور اس طرح روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں اور اس روپیہ سے مدرسین کی تنخواہیں چڑھی ہوئی دینا جائز ہے یا نہیں اور اس روپیہ کو مدرسہ کی تعمیر میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جنت میں جانے کے لئے ایمان شرط ہے بغیر ایمان لائے کوئی سکھ وغیرہ آٹھ سو روپیہ دے کر جنت میں نہیں جاسکتا واعظ کا مقصود بھی یہی تھا کہ مسلمان روپیہ دیدے تو جنت کا مستحق ہوگا کوشش کی جائے کہ وہ سکھ اسلام قبول کرے ورنہ اس کو بتلا دیا جائے کہ جنت میں جانے کے لئے ایمان شرط ہے اس شرط کے ساتھ جنت کا وعدہ ہے بغیر اس کے نہیں اگر وہ اس کو منظور نہ کرے تو اس کا روپیہ واپس کر دیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔